مقامی زبانوں کو انگریزی اور اردو کے ساتھ برابر کا مقام د
فی الحال تو صورتحال یہ ہے کہ کم سے کم پنجاب میں تو لوگ اپنے بچوں کا پنجابی بولنا بھی پسند نہیں کرتے اور اس رجحان کو شروع ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں۔ اس کی مثال اب دیہات میں بھی گھر گھر میں موجود ہے۔
یہیں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آصف زرداری اپنے بچوں سے کس زبان میں بات کرتے ہوں گے۔ جن لوگوں کو آئندہ حکمرانی کے لیے تیار کیا جا رہا ہے ان کی زبان عوام سے مختلف کیوں ہے۔
آخری بار پاکستان گیا تو سرگودھا میں ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی جو ایم اے اکنامکس کر رہا تھا اور جس کی تمام تر گفتگو انگلش کے گرد گھومتی تھی۔ اس نے کئی بار ایک دوست کا ذکر کیا جس کی انگلش بہت ‘ہائی’ تھی۔
اس کا کہنا تھا کہ اکنامکس تو ہو جائے گی اصل مسئلہ انگلش کا ہے۔ ایک پرانے وکیل کلاس فیلو سے ملاقات ہوئی تو انہوں کہا کہ ‘ماشااللہ اب تو میں انگریزی میں بھی دلائل دے سکتا ہوں۔’
بہت سال ہوئے ایک صحافی دوست سے گپ لگ رہی تھی جن کی انگلش بہت اچھی ہے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ میں ہائی کورٹ میں ایک کیس کی رپورٹنگ کر رہا ہوں جس میں اعتزاز احسن اور دیگر بڑے بڑے وکیل پیش ہو رہے ہیں تو انہوں نے پہلا سوال یہ کیا کہ اعتزاز کا انگلش کا لب و لہجہ کیسا ہے۔ میرے دوست کے لیے دلائل ثانوی حیثیت رکھتے تھے۔
پاکستان کے نوجوانوں کو اچھی طرح احساس ہے کہ محنت کے بغیر تو شاید کام چل جائے لیکن بہتر انگلش کے بغیر ترقی کا دروازہ ان پر بند ہی رہے گا۔ ہر پاکستانی کتنے ہی ایسے لوگوں کو جانتا ہوگا جنہوں نے انگلش کی وجہ سے پرائمری، مڈل، میٹرک، یا بی اے میں انگلش میں بار بار فیل ہونے کے بعد تعلیم کا سلسلہ ادھورا چھوڑ دیا۔
عالمی سطح پر کئی بار بنیادی تعلیم مادری زبان میں دینے کی اہمیت پر بات ہو چکی ہے لیکن پاکستان میں ابھی مقامی کلچر کو کمتر سمجھنے کا رواج جاری ہے۔
جس نے بھی کبھی سول یا فوجی افسر شاہی کا یا عدالتی نظام کا حصہ بننے کا خواب دیکھا ہے اسے معلوم ہے کہ اس میں انگلش میں بول چال کی صلاحیت کتنی اہمیت رکھتی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں انگلش سیکھنے کے یکساں مواقع نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک محدود اقلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ صرف انگلش کے بل پر ہی ملک میں چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔یکساں تعلیمی مواقع نہ ملنے کا نقصان یہ ہے کہ ایک بڑی اکثریت ریاست سے کٹ کر رہ جاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے انگلش کی تعلیم کو عام کیا جائے اور ملک کے مختلف حصوں کی ثقافتوں کو تسلیم کیا جائے اور تمام زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر نوکری کے لیے امتحان میں انگریزی اور اردو کا پرچہ ضرور رکھیں کیونکہ یہ بحرحال اندرونی اور بیرونی سطح پر رابطے کی زبانیں ہیں لیکن اختیاری مضامین کسی بھی زبان میں پڑھنے کا حق ہونا چاہیے۔